"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

وقت کی عدالت اور تاریخ کے ان کہے سبق: تحریر عظمیٰ اسحاق

Voice of World Urdu 
وقت کی عدالت اور تاریخ کے ان کہے سبق

تحریر: عظمیٰ اسحاق (Voice of World Urdu)

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وقت ایک ایسی عدالت ہے جہاں ہر ظالم کا زوال اور ہر حق پرست کا عروج پہلے سے لکھا جا چکا ہوتا ہے۔ ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے اردگرد کے حالات اور واقعات کو کنٹرول کر رہے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انسان اپنی تمام تر سائنسی ترقی اور مادی طاقت کے باوجود، وقت کی بے رحم زنجیروں میں جکڑا ایک قیدی ہے۔

اگر ہم ماضی کے پنوں کو پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ عظیم سلطنتیں، جن کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا، آج صرف آثارِ قدیمہ کی زینت بن چکی ہیں۔ ان کے عروج کے پیچھے کہیں نہ کہیں وہ غرور چھپا تھا جس نے انہیں زوال کی کھائی میں دھکیل دیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے ہم "The Twist of Time" یا وقت کا موڑ کہتے ہیں۔ ہر عروج کے پیچھے ایک زوال کی کہانی چھپی ہے، اور ہر زوال میں آنے والی نسلوں کے لیے ایک نیا سبق پوشیدہ ہے۔

آج کی جدید دنیا میں بھی وہی قدیم کھیل ایک نئے روپ میں جاری ہے۔ بحیرہ احمر کی لہروں سے لے کر مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ریگزاروں تک، سیاست کے مہرے بدل رہے ہیں اور طاقت کے توازن میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ایک بیدار مغز صحافی کی نظر سے دیکھا جائے تو آج کا ہر واقعہ ماضی کی کسی نہ کسی کڑی سے جڑا نظر آتا ہے۔ یہ کڑیاں ہی وہ حقیقتیں ہیں جو عام نظروں سے اوجھل رہ جاتی ہیں۔

صحافت کا اصل مقصد محض خبر پہنچانا نہیں بلکہ ان حقائق کو منظرِ عام پر لانا ہے جو طاقتوروں کی مصلحتوں تلے دب جاتے ہیں۔ سچائی کو چھپانا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا سورج کو بادلوں کی اوٹ میں قید کرنا۔ بادل عارضی ہوتے ہیں، مگر سورج کی حقیقت ابدی ہے۔ اسی طرح، ایک سچی تحریر دیر سے ہی سہی، مگر اپنا راستہ خود بناتی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی آواز کو کمزوروں کا سہارا بنائیں اور گزرتے ہوئے ہر لمحے کی قدر کریں۔ یاد رکھیں، تاریخ خود کو دہراتی نہیں ہے بلکہ ہمیں سدھرنے کا موقع دیتی ہے۔ جو قومیں اور افراد وقت کے اس بدلتے ہوئے رخ کو سمجھ لیتے ہیں، وہی مستقبل کے نقشے پر اپنا نام نقش کر پاتے ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی